download Basti / بستی – Bilb-weil.de

Amazing Book, Basti / بستی Author Intizar Husain This is very good and becomes the main topic to read, the readers are very takjup and always take inspiration from the contents of the book Basti / بستی, essay by Intizar Husain Is now on our website and you can download it by register what are you waiting for? Please read and make a refission for you


10 thoughts on “Basti / بستی

  1. Ishaque A. Ishaque A. says:

    اردو ادب میں انتظار حسین صاحب کو بلند پایاں مقام حاصل ہے اور  یہ کتاب میرا ان سے اولین تعارف ہے۔

    جس قدر مقبولیت ان کے اس ناول "بستی" کو حاصل ہے، مجھ ایسے کم فہم انسان کی ناقص علمی کہیئے یا کچھ اور کہ میں اس مقبولیت کا راز نہ پا سکا۔

    میرے جزبات و احساسات میں یہ ناول اس قدر ارتعاش نہ پیدا کر سکا جتنی میری توقعات تھیں، شاید معروف کتابوں کی خرابی یہی ہوتی ہے کہ ان سے امیدیں بہت وابستہ کر لی جاتی ہیں۔

    کتاب میں چند ایک مقامات بہرطور ایسے ضرور ہیں جو قاری کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں اور خیالات کی عمیق کھائیوں میں ڈبو دیتے ہیں۔

    یہ ناول ایک ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے انسان کی سرگزشت ہے جس نے قیام پاکستان اور ہجرت کی کرب ناکیوں میں اپنی اوائل عمری اور جوانی اور پھر سقوط ڈھاکہ جیسے سانحے کے ساتھ اپنی ڈھلتی عمر کے دن بتائے۔ اور ایک خوابیدگی سی کیفیت میں خود کو محسور پایا۔


    جیسے بقول جون ایلیاء:

    اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
    خوابوں ہی میں صرف ہوچکا ہوں


    گردش دوراں میں شہر لاہور کے بدلتے رنگ اور لوگوں کے بدلتے نظریات اور مزاج نے مصنف کو ایک مستقل مخمسے میں الجھائے رکھا اور وہ اس بات کی کھوج میں پھرتا رہا کہ ہم نے جس بستی کو خود بسایا تھا اس کو ہم خود ہی کیوں آگ لگا رہے ہیں اور وہ اکثر خود سے اور قاری سے سوال طلب نظر آیا کہ ہم سب کون ہیں اور یہ سب کیا ہے اور ہم نے اپنی شناخت کو پالیا ہے یا کھو دیا ہے یا پاکر کھودیا ہے۔

    ہر کردار وحشت اور خوف میں گھرا ہوا، پراگندہ خیالات و جزبات کا ایک جھکڑ ہر نفس کے اندر چلتا ہوا محسوس ہوا۔ خوف اور ناامیدی کی تیز و تند آندھیوں میں الجھتے سلجھتے بکھرتے لوگ   کسی بھی ایک سمت میں خود کو لے جانے سے  قاصر کہ جانے اگلا دن کیا قیامت لے کر آجائے۔ وہ سانحہ ہی اس قدر اندوہناک تھا کہ جس میں ہم نے خود اپنا ایک بازو کاٹ ڈالا۔

    یہ کہانی ایک بستی کی نہیں، ہر اس بستی کی روداد ہے جہاں ظلم بولتا ہے اور انصاف نے کانوں میں روئ ٹھونس رکھی ہوتی ہے۔

    "جب گیدڑ بولتے ہیں، شیر چپ ہوجاتے ہیں"


  2. Kamran Kamran says:

    بستی۔۔۔ ایک داستان ہے ، ہجرت کی، بچھڑی محبتوں، بچھڑے درخت، چرند پرند اور بچھڑے حال کی اور جو اس سب کے بدلے ملا، اس پر منڈلائے جنگی اثرات کی ۔۔۔ اور پھر ایک اور المیہ کی۔۔۔ جو سن سینتالیس کے بعد سن اکہتر میں واقع ہوا۔
    میرے نزدیک یہ ایک اجتماعی حادثہ نہیں تھا۔ یہ حادثہ صرف مشرقی پاکستان والوں کا تھا۔ پر اس بار اس میں ہاتھ انگریز کا نہیں اپنوں کا، مغربی پاکستان کا تھا۔ اس موضوع سے متعلق ناول کے ایک منظر میں مرکزی کردار ذاکر، اس سانحے/شکست کی ذمہ داری ہر شخص پر عائد کرتا یے۔

    "بستی برباد ہوتی ہے تو اس کے ساتھ وہ دکھ بھی فراموش ہو جاتے ہیں جو وہاں رہتے ہوئے لوگوں نے بھرے ہوتے ہیں۔ اس جنگ زدہ عہد کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے دکھ ہماری یادیں نہیں بن پاتے۔"

    میں ادیبوں کی خود نوِشت سے ان کو پڑھنا شروع کرتا ہوں۔ انتظار حسین صاحب کی "یادوں کا دھواں" پڑھی۔ اور یہ تجربہ اس ناول میں بے حد کام آیا۔ مرکزی کردار ذاکر میں کم و بیش انتظار صاحب کی جھلک ملتی ہے۔

    سہل اردو، کربناک خیالات، ناسٹلجیا تو ہے پر اس کا تخیلاتی ربط جس طرح کے مناظر تخلیق کرتا ہے بے حد خوبصورت ہے۔ ہندو متھالوجی کا استعمال بھی ناول کو خوب تر بناتا ہے۔

    “In the dark times
    Will there also be singing?
    Yes, there will also be singing.
    About the dark times.”

    ― Bertolt Brecht


  3. Susan Susan says:

    This book - a little slow to get into - is excellent. A young boy from a Muslim family leaves India for Pakistan and later, as a young man, is faced with his family's experience in the Bangladesh War and with violence between India and Pakistan. Not particularly about the violence of Partition, more about the results on an emotional level for one boy and his family. References to violence in India in the 19th century. There is a good little introduction that gives some of the relevant history that was helpful to me. More about the mood and feelings than actual events. Left me wanting to read more by this author, if it's available.


  4. Arslan Arslan says:

    بستی کو اگر اردو ادب کی کچھ بڑی کتب میں شامل نا کیا جائے تو کسی حد تک اردو ادب کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ کچھ لوگ بضد ہیں کہ اسے شاہکار کا درجہ خوامخواہ مل گیا ہے۔ یہ ایک شاہکار تو نہیں ہے لیکن کسی طور کم بھی نہیں ہے۔
    بستی وہ داستان ہے کہ ۵۷ کا غدر جس کا آغاز ہے اور ۷۱ کا سقوط جس کی انتہا۔ مختلف زمانوں کی مماثلت اور تاریخ کی تکرار کو انتظار صاحب نے نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ بستی کو کسی نے بجا طور پر Nostalgia کا ناول کہا تھا لیکن ماضی کا مرثیہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ حال پر بھی برابر کا نوحہ کناں ہے۔
    یہ کہانی ہے اس ہجر کی کہ ۴۷ کی ہجرت جس کا باعث بنی اور ان زخموں کی جو ۷۱ میں نئے سرے سے ہرے ہوئے۔


  5. Mujahid Khan Mujahid Khan says:

    Intizar Hussain is a short-story writer but this novel is a testament to the fact that he is a master of writing.
    Written in the backdrop of independence riots, this novel explores the hideous atrocities and the dark face of war in an extremely beautiful way. His pungent words strikes deeply into the chasms of human heart invoking images that are so vivid that one feels like floating in that era.


  6. Muhammad Ahmed Siddiqui Muhammad Ahmed Siddiqui says:

    Clearly not my cup of tea. The author tried to give a message in a complicated way. Even the conversation between characters was confusing.


  7. sohail bhatti sohail bhatti says:

    I read this book in my native language Urdu. Although there are good reviews from the people who have read its transalations but still I do not know how much have been lost in the transalation. But I do agree it is a challenging and difficult book to read. It is a story about the painful experience of partition of India & Pakistan. Then another painful experience of separation of East Pakistan and the war of 1971. The book contains everything, drama, memory, philosophy and mythology.


  8. Saima Ahsan Saima Ahsan says:

    A very beautiful book. Loved, loved it. Intizar Hussain sb’s style, storytelling, use of idioms, proverbs, and character building is outstanding. They way he treats the story, moving in & out of different time zones, portraying the pain, anguish , anger & frustration of post-partition era is stunning. No doubt it’s a famous, talked about classic of Urdu literature .


  9. Saad Sultan Saad Sultan says:

    Extremely expensive novel, paid 1200 rupees for 210 pages book. Really disappointed from sangemeel. Print quality is pathetic, paper is rough. I suggest readers to boycott sangemeel. Novel is good just because of price I am not giving it five stars


  10. Amjad Kundi Amjad Kundi says:

    اردو ادب کے دس بہترین ناولوں میں سے ایک خوبصورت ترین ناول ہے